Menu Close

Did the Second Person of the Trinity Die on the Cross?

The following article, Did the Second Person of the Trinity Die on the Cross?, was written by Mark Jones and originally published on the Reformation21 website. It has been translated into Urdu by Arslan Ul Haq. 

کیا تثلیث کا دوسرا اقنوم صلیب پر موا؟
مصنف: مارک جونز
ترجمہ کار: ارسلان الحق
صلیب پر کس نے اپنی جان دی؟
کیا تثلیث کا دوسرا اقنوم صلیب پر موا؟
جی ہاں، ہم اِس بات کا اقرار کرتے ہیں (اگرچہ تمام مسیحی اِس بات پر متفق نہیں ہیں)۔
حال ہی میں، میں نے آر۔ سی۔ سپرول کی ایک تحریر پڑھی جس میں یہ موقف پیش کیا گیا تھا کہ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ تثلیث کا دوسرا اقنوم موا کیونکہ ایسا کہنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ خدا کی لاتبدیل ذات میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی۔ اُس مضمون میں دلیل دی گئی کہ ہمیں اِس خیال سے کترانا چاہیے کہ خدا صلیب پر موا۔ اور مزید یہ کہ ہمارے گناہوں کے کفارے کا کام مسیح کی انسانی فطرت نے انجام دیا۔
میری رائے میں، یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں ذات (جوہر) سے متعلق اور اقانیم (اشخاص) سے متعلق موزوں زبان کے درمیان فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے یعنی ذاتی (جوہر) نسبت اور شخصی نسبت کے بیان میں فرق کو۔ چناں چہ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقانیم کے باہمی تعلق کے اعتبار سے بیٹا اور روح القدس آ پاتِر (یعنی باپ سے ہیں) لیکن اپنی ذات یا جوہر کے اعتبار سے وہ آ سے (قائم بالذات) ہیں۔ اِسی بنا پر، اصلاحی علما نے عمومی طور پر اس امتیاز کو الوہیت کے جوہر کی وحدت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تینوں اقانیم کے باہمی تعلق کے اعتبار سے ایک ترتیبی نظم کو وثوق کے ساتھ بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
لہٰذا، اقانیم سے متعلق مناسب طرزِ بیان واضح کرتا ہے کہ ہم کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ صلیب پر باپ نہیں بلکہ بیٹا موا۔
اگر ہم اِس بات کا اقرار کرتے ہیں جیسا کہ ہمیں کرنا چاہیے کہ خدا نے اپنی کلیسیا کو اپنے خون سے مول لیا یعنی خریدا (اعمال 28:20) تو درحقیقت ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا نے اپنی کلیسیا کو اپنی موت کے وسیلے سے خریدا۔ پھر ہمیں یہ کہنے (یا گانے) کی اجازت کیوں نہیں ہونی چاہیے جو کلامِ مقدس واضح طور پر سکھاتا ہے؟ کیا لوقا کا یہ بیان اُس کے قارئین کے لیے غلط فہمی کا باعث بن سکتا تھا؟ یقیناً۔ لیکن مسیح نے بھی بہت سی ایسی باتیں کہیں جو غلط فہمی کا باعث بن سکتی تھیں (مثلاً یوحنا 53:6)۔
انجیل کا بھید اور جلال ہم سے اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایسی باتیں بھی بیان کریں جنہیں ممکنہ طور پر غلط سمجھا جا سکتا ہے (مثلاً سولا فیڈے یعنی صرف ایمان کے وسیلے سے راست بازٹھہرائے جانے کا عقیدہ اور اس مبارک عقیدے کے بارے میں رومن کیتھولک ردِعمل)۔
بعض لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ الوہیت نے دکھ اٹھایا، اِس لیے وہ خدا کے بیٹے (یعنی تثلیث کے دوسرے اقنوم) کے صلیب پر مرنے کا اقرار کرنے سے کتراتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں متذکرہ بالا بیان کر چکا ہوں، یہ موقف غلط ہے اور مستند مسیحی الٰہیات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہاں ہمیں کلام کے اس اسلوب کی نوعیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ہم صفات کی نسبتِ باہمی کے اصول کے تحت یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا موا انسانی فطرت کے اعتبار سے (ویسٹ منسٹر اقرارالایمان، آٹھواں باب، شق 7)۔ یہاں تک تو بات درست ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ الوہیت نے صلیب پر دکھ اٹھایا غلط ہے کیونکہ یہ بات مجازی نسبت کے اسلوب کے بغیر کہی گئی ہے۔ مجرد حیثیت (دیگر الفاظ میں الوہیت) الٰہی ذات یا جوہر ہے جو مر نہیں سکتا۔ لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا موا تو ہم شخصِ معین کی حیثیت سے یعنی اُس شخص کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں جس شخص کا نام ہے اور جو خدائے مجسم یعنی خدا اور انسان دونوں ہے۔
ہمیں یہ کہنا چاہیے موت کسی فطرت کی نہیں بلکہ شخص کی واقع ہوئی۔ صلیب پر جو شخص مرا وہ یسوع مسیح، خدا کا بیٹا ہے۔
عقیدے کا یہ نکتہ (دیگر الفاظ میں، صفات کی باہمی نسبت)، اصلاحی علما اور مختلف رومن کیتھولک مصنفین کے درمیان اختلاف کا باعث رہا ہے۔ ان مصنفین میں رابرٹ بیلامین (1542ء تا 1621ء) بھی شامل تھا جس کا موقف تھا کہ مسیح نے اپنا شفاعتی کام صرف انسان کی حیثیت سے انجام دیا۔ اُس کے جواب میں اصلاحی علما نے استدلال کیا کہ اگر مسیح کا شفاعتی کام صرف اس کی انسانی فطرت نے سرانجام دیا تو پھر تجسم سے پہلے اور بعد میں کوئی دوسرا انسان بھی اِسی یکساں تاثیر کے ساتھ شفاعت کا کام کر سکتا تھا۔ اصلاحی علما نے مسیح کی دونوں فطرتوں کو اُس کی واحد شخصیت کے اتحاد کے ساتھ مربوط رکھتے ہوئے، مسیح کے شفاعتی کام کو محض ایک انسان کا کام قرار دینے سے انکار کیا۔ نہیں۔ مسیح کا شفاعتی کام خدا کے بیٹے کا کام تھا جو صلیب پر موا۔
لہٰذا، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کفارے کا کام مسیح کی انسانی فطرت نے انجام دیا تھا۔ یہ رومن کیتھولک عقیدے کی ایک غلطی ہے۔ فطرتیں مجرد حیثیت میں کوئی کام انجام نہیں دیتیں۔ مسیح کے سارے شفاعتی کام میں ہماری توجہ شخصِ معین پرہوتی ہے کہ بیٹے نے یہ کام کیا یا بیٹے نے وہ کام کیا۔ کفارہ شخص کی طرف سے ادا کیا جانا ضروری تھا کیونکہ کفارے کی قدر و قیمت لامحدود ہونا لازم تھا۔
تو کیا ہم یہ گیت گا سکتے ہیں، کیا یہ ممکن ہے؟ (خصوصاً اِس کے یہ الفاظ، یہ کیسے ممکن ہے کہ تو، اے میرے خدا، میرے لیے مر جائے؟)
بالکل! ہم یہ گیت اِسی مفہوم کے ساتھ گاتے ہیں، میں خدا کے بیٹے پر ایمان لانے سے زندگی گذارتا ہوں جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دِیا (گلتیوں 20:2)۔
سردیس کا میلیتو لکھتا ہے کہ
جس نے آسمانوں کو اپنی جگہ قائم کیا، اسے خود ایک جگہ پر ٹھہرا دیا گیا ہے۔
جس نے کائنات کی بنیاد رکھی، اُسے لکڑی پرلٹکا دیا گیا ہے۔
مالک کو بے حرمت کیا گیا ہے۔
خدا کو قتل کر دیا گیا ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply