Menu Close

Does the Bible Teach Soul Sleep?

Reading Time: 3 minutes

The following article, Does the Bible Teach Soul Sleep?, was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

کیا بائبل مقدس روح کے سونے کی تعلیم دیتی ہے؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
ہمارے ایک قاری نے روح کے سونے کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اِس سوال کا تعلق ایسی بائبلی آیات سے ہے جن میں موت کو نیند یا سونے سے تشبیہ دی گئی ہے، مثلاً واعظ 5:9 میں لکھا ہے کہ مردے کچھ بھی نہیں جانتے، 1 تھسلنیکیوں 14:4-17 میں مرے ہوؤں کو سوئے ہوئے کہا گیا ہے اور یوحنا 13:3 میں یسوع فرماتا ہے کہ آسمان پر کوئی نہیں چڑھا۔ روح کے سونے کا نظریہ یہ ہے کہ مردے موت کے فوراً بعد شعوری طور پر نہ جلال کا تجربہ کرتے ہیں اور نہ عذاب کا بلکہ روزِ قیامت تک بے خبری یا غیر شعوری حالت میں رہتے ہیں۔
کلیسیا نے اِس نظریے کو بارہا بدعتی تعلیم قرار دے کر ردّ کیا ہے اور آج بھی یہ مسیحیت کی نسبت بعض ایسے فرقوں میں زیادہ نمایاں ہے جنہیں عام طور پر مسیحی گروہوں سے الگ سمجھا جاتا ہے، مثلاً یہوواہ وٹنس اور سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ میں۔
درج بالا حوالہ جات کو تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: وہ مقامات جہاں موت کو نیند کہا گیا ہے (1 تھسلنیکیوں 14:4-17، موازنہ کریں متی 24:9، 52:27، یوحنا 11:11؛ اعمال 36:13)، وہ مقامات جو بظاہر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ موت کے بعد ہم بے شعور ہوتے ہیں (واعظ 5:9، موازنہ کریں زبور 5:6، ایوب 11:3-18)، اور وہ مقامات جو بظاہر موت کے فوراً بعد جلال کی کوئی امید نہیں دیتے (یوحنا 13:3۔ موازنہ کریں یوحنا 21:8-22؛ زبور 10:88-12)۔
اگر ان تمام حوالہ جات کو اکٹھا پڑھا جائے تو یہ تعلیم بظاہر قائل کرنے والی محسوس ہو سکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بائبل مقدس بہت واضح طور پر تعلیم دیتی ہے کہ ہم موت کے فوراً بعد مسیح کے ساتھ شعوری جلال کی حالت میں ہوں گے۔
اس کی ایک واضح ترین مثال لوقا 43:23 ہے، آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔ یہ یسوع کے وہ الفاظ ہیں جو اُس نے توبہ کرنے والے ڈاکو سے کہے۔ یسوع نے اُس سے فردوس کا بھی ذکر کیا جو آسمان کے لیے استعمال ہونے والا ایسا نام ہے جو اُس کی مبارک حالی کو نمایاں کرتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے روح کے سونے کی تعلیم نہیں دی۔ لوقا کی انجیل میں اس حوالے سے پہلے امیر آدمی اور لعزر کی تمثیل (لوقا 19:16-31) بھی روح کے سونے کے نظریہ کی تردید کرتی ہے۔
دیگر بائبلی حوالہ جات بھی موت کے فوراً بعد مسیح کے ساتھ شعوری رفاقت کی بات کرتے ہیں: فلپیوں 21:1-24 اور 2 کرنتھیوں 6:5-8۔ فلپیوں 21:1-24 خاص طور پر اہم ہے۔ پولس کہتا ہے کہ مرنا نفع ہے اور مسیح کے ساتھ ہونا اس موجودہ زندگی سے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر موت کے بعد ہم بے شعور ہوتے تو اِن دونوں باتوں کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔
مکاشفہ 9:6 شہیدوں کی روحوں کا ذکر کرتا ہے جو خدا سے اُن کے خون کے بدلے کے لیے فریاد کرتی ہیں۔ مکاشفہ 15:7 میں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اُس کے مقدس میں رات دِن اُس کی عبادت کرتے ہیں اور مکاشفہ 13:14 میں اُن کا اپنی محنتوں سے آرام پانے کا ذکر ہے۔ عبرانیوں 22:12-23 ہمارے، لاکھوں فرشتوں کی جماعت، پہلوٹھوں کی عام جماعت یعنی کلیسیا اور کامل کئے ہوئے راستبازوں کی روحوں کے یسوع اور چھڑکاؤ کے خون کے پاس آنے کا بیان کرتی ہیں۔ ان تمام حوالہ جات میں روح کے سونے کے نظریہ کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
آخر میں، 2 کرنتھیوں 1:5-4 ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم اس دنیاوی زندگی کو چھوڑیں گے تو ہم بے لباس نہیں چھوڑے جائیں گے۔ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔ اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ حوالہ ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ ہم آسمان میں بھی حقیقی معنوں میں ’زندہ‘‘ رہیں گے جس طرح ہم زمین پر زندہ تھے۔
پس وہ آیات جو موت کو نیند یا سونے سے تشبیہ دیتی ہیں، ایمانداروں کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ اُن کے جسم کا برباد ہونا نہ تو اختتام ہے اور نہ ہی کوئی خوفناک بات بلکہ یہ جسم کے لیے ایک مختصررات کی نیند کی مانند ہے جس کے بعد ایک نئے دِن کی صبح طلوع ہوتی ہے۔
وہ مشکل حوالہ جات جو موت کے بعد فراموشی اور غیر شعوری حالت کی تعلیم دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی ایک حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہوں۔ اوّل، موت کے بعد اس موجودہ زندگی کی یاد باقی نہ رہنے کی طرف۔ دوم، موت میں اس موجودہ زندگی کی آزمائشوں کو پیچھے چھوڑ دینے اور ’’بھول جانے‘‘ کی طرف۔ سوم، (موازنہ کریں زبور 5:6) اس حقیقت کی طرف کہ موت کے بعد نجات کی کوئی مزید امید باقی نہیں رہتی۔
لہذا ’’روح کے سونے‘‘ کا نظریہ نہ صرف غیر بائبلی اور بدعتی ہے بلکہ یہ ایسی تعلیم بھی ہے جو ایمانداروں سے اُس بڑی تسلی کو چھین لیتی ہے جس کی اُنہیں مرنے کے وقت ضرورت ہوتی ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.