The following article, The Confession of Your Church, was authored by Abraham Kuyper and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
آپ کی کلیسیا کا اقرارالایمان
مصنف: ابرہام کائپر (عوامی اقرار الایمان کے مضمرات سے ماخوذ)
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
آؤ ہم اپنے اِقرار پر قائِم رہیں(عبرانیوں 14:4)۔
بارہا یہ بات سننے میں آتی ہے کہ اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی کلیسیا کا اقرارالایمان کیا ہے اور اہم بات صرف یہ ہے کہ آپ ذاتی طور پر کیا ایمان رکھتے ہیں۔
جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، عموماً یوں استدلال کرتے ہیں کہ اگر آپ خداوند یسوع مسیح سے تعلق رکھتے ہیں اور خدا آپ کے دِل میں رہتا ہے تو پھر آپ کو کسی کلیسیا کے اقرارالایمان سے کیا غرض؟ ہر وہ کلیسیا جو حقیقی معنوں میں مسیح کی کلیسیا ہے، اُسے آپ کو قبول کرنا چاہیےاور اگر کوئی کلیسیا آپ کو قبول نہیں کرتی تو گویا وہ اپنے وجود کا جواز کھو دیتی ہے۔ یہ ساری تعلیم اور الٰہیات کس لیے؟ گویا خدا کی بادشاہی کسی کیٹی کزم کے مرتب کردہ سوالات اور جوابات پر موقوف ہو۔ اصل چیز تو روح القدس کا کام ہے۔ اقرار کرنا دِل کا معاملہ ہے۔ کیا محض کچھ عقائد یاد کر لینا اُس روحانی تجربے کی جگہ لے سکتا ہے جو خدا انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے واقعی روح القدس کے کام کا تجربہ کیا ہے تو ہر کلیسیا کو اسے عشائے ربانی میں شریک ہونے دینا چاہیے اور اگر اُس نے روح القدس کے کام کا تجربہ نہیں کیا تو چاہے وہ مذہبی تعلیم میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، اُسے کلیسیا میں قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
رسولوں کے انتقال کے کچھ ہی عرصہ بعد مونٹانسٹ ایسے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ ہر دور میں کچھ نہایت جذباتی اور روحانیت پسند لوگ اِسی طرزِ فکر کے حامل رہے ہیں۔ اصلاحِ کلیسیا کے زمانے میں اینابپٹسٹ بھی ایسی ہی باتیں کہتے تھے۔ آج بھی بعض یک رخی روحانی لوگ صرف روحانی تجربے کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کیا ایمان رکھتا ہے بلکہ صرف یہ ہے کہ آیا اُس نے کوئی گہرا روحانی تجربہ کیا ہے یا نہیں۔ اگر کیا ہے تو وہ کلیسیا کے اندر آنے کے لائق ہے؛ اگر نہیں کیا تو وہ باہر رہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ عقائد کی تعلیم، کیٹی کزم کا مطالعہ اور باقاعدہ اقرارالایمان کی تیاری تقریباً بے فائدہ چیزیں ہیں۔ بعض تو یہاں تک سمجھتے ہیں کہ ایمان کا باقاعدہ اقرار کرنا بھی محض ایک رسمی عمل ہے جس کی کوئی حقیقی روحانی قدر نہیں۔
لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ مقدس رسولوں نے بھی اِس معاملے پر فیصلہ دیا ہے اور اُن کا فیصلہ ان لوگوں کی رائے کے بالکل برعکس ہے جو خود کو بہت زیادہ روحانی سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی کلیسیا کا مشترکہ اقرارالایمان انسان کے ذاتی اقرار سے تعلق نہیں رکھتا؟ ہرگز نہیں۔ ملاحظہ ہو، پولس رسول نے کرنتھس کی کلیسیا کو کیا لکھا، اب اے بھائِیو! یسوع مسیح جو ہمارا خداوند ہے اُس کے نام کے وسیلہ سے میں تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ سب ایک ہی بات کہو (1 کرنتھیوں 10:1)۔ ایک ہی بات کہو یقیناً مشترکہ اقرارالایمان کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ پولس مزید فرماتا ہے، اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یک دِل اور یک رای ہو کر کامل بنے رہو۔ غور کریں کہ پولس نے اُن سے یہ نہیں کہا کہ وہ ایک ہی احساس یا ایک ہی جذباتی تجربے میں متحد ہوں بلکہ ایک ہی سوچ اور ایک ہی رائے میں متحد ہوں۔ یہی درخواست اس نے فلپی کی کلیسیا سے بھی کی، بہر حال جہاں تک ہم پہنچے ہیں اُسی کے مطابق چلیں (فلپیوں 16:3)۔ مقدس یوحنا رسول بھی اِسی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور اسے واضح طور پر اقرارالایمان سے جوڑتا ہے۔ پولس نے رومیوں 10:10 میں لکھا، کیونکہ راست بازی کے لِئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لِئے اِقرار منہ سے کیا جاتا ہے۔ اور یوحنا لکھتا ہے، خدا کے روح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی روح اِقرار کرے کہ یسوع مسیح مجسم ہو کر آیا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور جو کوئی روح یسوع کا اِقرار نہ کرے وہ خدا کی طرف سے نہیں اور یہی مخالفِ مسیح کی روح ہے جس کی خبر تم سن چکے ہو کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اب بھی دنیا میں موجود ہے (1 یوحنا 2:4-3)۔
چناں چہ، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مقدس رسول جنہوں نے روح القدس کے الٰہام سے لکھا اور جن کے کلام اور تفہیم کی ہمیں اطاعت کرنی چاہیے ، اُن لوگوں کے نظریے کی صریحاً تردید کرتے ہیں جو خود کو بہت زیادہ روحانی سمجھتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کلیسیا کا مشترکہ اقرارالایمان (یعنی وہ عقائد جن کا تمام ایماندار مل کر اقرار کرتے ہیں) کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ ایسے لوگوں کے مطابق اُس عقیدہ کا جس کا ہم زبان سے اقرار کرتے ہیں، دِلی ایمان سے کچھ خاص تعلق نہیں۔ لیکن مقدس رسول خداوند کے نام میں اِس کے برعکس تعلیم دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ نجات کے لِئے اِقرار منہ سے کیا جاتا ہے اور ایماندار باہم یک دِل اور یک رای ہو کر ایک ہی بات کہیں۔ اور وہ دلیری سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جو اپنے ایمان اور اقرار میں خدا کے بیٹے کے متعلق سچی تعلیم سے ہٹ جاتا ہے، اُس میں مسیح مخالف کی روح پائی جاتی ہے۔
جب آپ کو معلوم ہو کہ اقرارالایمان کی تیاری کے حصے کے طور پر آپ کو مطالعہ کرنا ضروری ہے تو رسولوں کی یہ گواہی آپ کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے۔ یہ آپ کو اِس بات پر بھی ابھارے کہ آپ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں سنجیدہ اصرار کریں۔ یقیناً اُن کو تعلیم دینا آپ پر فرض ہے۔ جب آپ نے اُنہیں بپتسمہ کے لیے پیش کیا تھا تب آپ نے اِس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اُس موقع پر آپ نے اِن اہم سوالات کے جواب اثبات میں دیے تھے، کیا آپ وعدہ کرتے ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں کہ جب یہ بچے سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچیں گے تو آپ انہیں مذکورہ بالا عقیدہ کی تعلیم دلوائیں گے اور اُسی کے مطابق ان کی پرورش کریں گے یا ان کی اس سلسلے میں تعلیم و تربیت کا انتظام کریں گے؟ یہ مذکورہ بالا تعلیم کوئی مبہم یا غیر واضح تعلیم نہ تھی کیونکہ اِس سے فوراً پہلے یہ سوال پوچھا گیا تھا، کیا آپ اُس تعلیم کو جو بائبل مقدس کے پرانے اور نئے عہد نامہ میں بیان کی گئی ہے اور جو مسیحی ارکان ایمان میں موجود ہے اور اِس مسیحی کلیسیا میں سکھائی جاتی ہے، نجات کی سچی اور کامل تعلیم تسلیم کرتے ہیں؟ لہٰذا، آپ کا بپتسمہ بھی آپ کو ایک عقیدہ کا پابند بناتا ہے، ایک مخصوص عقیدے کا، ایسا عقیدہ جو واضح طور پر متعین اور اچھی طرح حدود و قیود کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
بپتسمہ کا یہ عہد ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے۔ باپ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو تعلیم دے گا۔ پھر وہی بچہ جب خود باپ بن جاتا ہے، اُس عہد کی ازسرِنو تجدید کرتا ہے۔ یہ وعدہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے، بچوں کو مذکورہ بالا عقیدہ کی تعلیم دینا یا اس بات کا اہتمام اور مدد کرنا کہ اُنہیں یہ تعلیم دی جائے۔ اِسی طریقے سے کلیسیا ایک مشترک اقرار الایمان میں قائم رہتی ہے۔ کلیسیائی زندگی اور اُس کی سرگرمیاں اِسی بپتسمہ کے عہد پر استوار ہیں۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اِسی تعلیم (عقیدے) کی اشاعت و ترویج کا حکم مقدس رسولوں نے بھی آپ کو دِیا ہے۔ اُن کے احکام فیصلہ کن ہیں اور سب پر لازم ہیں۔ سب کو باہم یک دِل اور یک رای ہو کر ایک ہی بات کہنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ہم سب ایک ہی عقیدہ اور تعلیم کا اقرار کریں۔
اِس لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔ جو کلیسیا اپنی نوجوان نسل کو تعلیم نہیں دیتی، وہ کبھی بھی اپنے خالص اقرارالایمان کو قائم رکھنے کی امید نہیں رکھ سکتی۔ ایسی کلیسیا اپنے اقرار الایمان سے دست بردار ہو جاتی ہے، ماضی سے اپنا تعلق توڑ لیتی ہے، اپنے آباؤ اجداد کی روحانی میراث سے الگ ہو جاتی ہے اور یوں ایک نیا گروہ جنم لیتا ہے۔
جی ہاں، مطالعہ کرنا ہم پر فرض ہے۔ اگر آپ اپنے ایمان کا اقرار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اُس ایمان سے متعلق سیکھنا ہوگا۔ اِس کے لئے کسی خاص واعظ، معلم یا استاد کی ذاتی تشریح کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کی آراء میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور ہمیشہ سے پایا جاتا رہا ہے۔ بلکہ آپ کو وہ سچائی سیکھنے کی ضرورت ہے جس کا اقرار کلیسیا نے صدیوں سے خدا کے کلامِ مقدس میں منکشف شدہ سچائی کے طور پر کیا ہے۔ یہی ایمان کا اقرار تمام کلیسیاؤں میں سکھایا جانا چاہیے؛ اُن سب کو جو کلیسیا کے اندر پرورش پاتے ہیں اور اُن سب کو جو اِس کے ذمہ دار رکن بننا چاہتے ہیں، خواہ وہ نوجوان ہوں یا عمر رسیدہ، تجربہ کار ہوں یا ناتجربہ کار۔
موجودہ نسل کو اُس اقرار الایمان کی ازسرِنو توثیق کرنی چاہیے جو پچھلی نسل نے اپنے باپ دادا سے حاصل کیا تھا۔ اِس سے بڑھ کر کوئی غلط تصور نہیں ہو سکتا کہ ہر نئی نسل ایک نیا یعنی مختلف اقرار الایمان وضع کرے۔ اولاد کو اپنے باپ دادا کے اقرار الایمان کی دوبارہ توثیق کرنی چاہیے۔ حقیقی تعلیم دراصل یہی ہے، حقائق کی نئی وضاحت اور اُن کی ازسرِنو توثیق۔ چنانچہ ایسی حقیقی تعلیم کو یسوع مسیح کی کلیسیا میں رائج ہونا چاہیے۔ کلیسیا کا مقدس مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جو ایمان دِل میں موجود ہے، وہی زبان کے اقرار میں بھی ظاہر ہو۔ دوسرے الفاظ میں، دِل کی سچی آواز اور ہونٹوں کا اقرار ایک ہی بات کی گواہی دیں۔
زبور 78 میں آسف نے اِس معاملے میں ایک سنہری اصول بیان کیا ہے، اے میرے لوگو! میری شریعت کو سنو۔ میرے منہ کی باتوں پر کان لگاؤ۔ میں تمثیل میں کلام کروں گا اور قدیم معمے کہوں گا۔ جن کو ہم نے سنا اور جان لیا اور ہمارے باپ دادا نے ہم کو بتایا (1-3)۔ آسف ہمیں بتاتا ہے کہ ان حقائق کو ہمیں اپنی آئندہ نسلوں سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ خداوند خدا نے اپنی سچائی کا خزانہ اپنی کلیسیا کی امانت میں اِس لیے سونپا ہے تاکہ وہ باغ عدن سے لے کر دنیا کے اختتام تک، نسل در نسل، محفوظ اور قائم رہے. آسف گاتا ہے، کیونکہ اُس نے یعقوب میں ایک شہادت قائم کی اور اسرائیل میں شریعت مقرر کی جن کی بابت اُس نے ہمارے باپ دادا کو حکم دِیا کہ وہ اپنی اولاد کو اُن کی تعلیم دیں۔ تاکہ آیندہ پشت یعنی وہ فرزند جو پیدا ہوں گے اُن کو جان لیں اور وہ بڑے ہو کر اپنی اولاد کو سکھائیں کہ وہ خدا پر آس رکھیں اور اُس کے کاموں کو بھول نہ جائیں بلکہ اُس کے حکموں پر عمل کریں (5-7)۔
لہٰذا مطالعہ یعنی سیکھنے اور سکھانے کے فرض کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ یہ ذمہ داری پوری کریں۔ خدا کی وہ سچائی جو اُس نے ظاہر فرمائی ہے، ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونی چاہیے۔ کلیسیا کا اقرارالایمان زمانوں کی گرد میں دب کر فراموش نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ اسے مسلسل نئے سرے سے دہرایا اور برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ بات درست ہے کہ محض زبانی یاد کر لینا کافی نہیں اور نہ ہی اپنے آپ میں کوئی فائدہ رکھتا ہے لیکن باوجود اِِس کے، اگر یادداشت اور تعلیم کا یہ عمل نہ ہو تو وہ کڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں جو خدا کی کلیسیا کو نسل در نسل ایک ایمان اور ایک وحدت میں قائم رکھتی ہیں اور یوں وہ شیرازہ بکھر جاتا ہے جو کلیسیا کو متحد رکھتا ہے۔
پہلی نظر میں ہمیں یہ خیال بہت اچھا لگتا ہے کہ اگر خدا کی کلیسیا آج بھی بالکل وہی اقرار الایمان رکھتی جو اُس نے ابتدا سے رکھا ہے اور اگر وہ اقرار الایمان ہر بات کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کرتا تو یہ ایک بہترین صورتِ حال ہوتی۔درحقیقت اس میں گناہ کا بھی ایک پہلو پایا جاتا ہے کیونکہ کلیسیا کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ خدا کی مرضی بالکل یہ نہیں تھی کہ کہ اقرار الایمان ایک جامد اور غیر متغیر چیز بن کر رہ جائے۔ ہر نسل کو خدا کے کلام کی سچائی کو خود سمجھنا، اُس پر ایمان لانا اور پھر اس کا اپنی زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات بھی نہایت معقول معلوم ہوتی ہے کہ بعض اوقات تبدیلیاں واقع ہونا ضروری ہیں۔ اِسی لیے بعض اوقات اقرار الایمان میں وضاحت، تشریح، یا الفاظ کے لحاظ سے تبدیلیاں ضروری ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اِس لیے نہیں ہوتیں کہ کلیسیا پرانی سچائی کو چھوڑ دے بلکہ اِس لیے کہ وہ اُسی سچائی کو نئے حالات اور نئے سوالات کے جواب میں زیادہ واضح طور پر بیان کر سکے۔ اگر کوئی تبدیلی نہ ہو تو نئی نسل صرف پچھلی نسل کی باتوں کو سوچے سمجھے بغیر دہراتی رہے گی۔ اِس صورت میں ان کا اقرار الایمان محض اندھی تقلید بن جائے گا نہ کہ حقیقی سمجھ اور دِلی اعتماد کے ساتھ کیا گیا زبانی اقرار۔
لہٰذا ہم جانتے ہیں کہ بعض کلیسیائیں تعلیمی اور اخلاقی طور پر بگاڑ کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ بعض کلیسیائیں اصلاحی اور اغلاط اور بگاڑ سے پاک کی گئیں ہیں۔ یہی حال اُن کلیسیاؤں کے عقائد اور اقرارالایمان کا بھی ہے۔ آپ کے لیے یہ ایک عظیم استحقاق ہے کہ آپ ایسی اصلاحی کلیسیا میں پیدا ہوئے ہیں جس کا اقرار الایمان اصلاحی ہے۔ یہ استحقاق آپ کے دِل میں اِس خواہش کو اور مضبوط کرے کہ آپ کبھی اِس پاک اقرارالایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ جو کُچھ تیرے پاس ہے اُسے تھامے رہ۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.