The following article, The Lord’s Supper: Who Should Partake?, was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
عشائے ربانی میں کون شریک ہو سکتا ہے؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
١۔ عشائے ربانی میں کون شریک ہو سکتا ہے؟
٢۔ کیا ایسے بچے جو بپتسمہ لے چکے ہیں لیکن ابھی اِتنے بڑے نہیں ہوئے کہ اِس کی روحانی اہمیت کو سمجھ سکیں، عشائے ربانی میں شریک ہو سکتے ہیں؟
اِن دونوں سوالوں کا جواب 1 کرنتھیوں 29:11 میں دیا گیا ہے جہاں عشائے ربانی میں کھاتے پیتے وقت خداوند کے بدن کو پہچاننے کا ذکر ہے۔ اِس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
پہلی، عشائے ربانی میں شریک ہونے والوں کا ایمان دار ہونا ضروری ہے۔ صرف ایماندار ہی ایمان سے روٹی اور انگوروں کے شیرے میں ہمارے نجات دہندہ کے توڑے گئے بدن اور بہائے گئے خون کو پہچانتا ہے۔ اِصلاحی بیلجک اقرارالایمان کی توضیح نمبر 35 میں بیان کیا گیا ہے کہ اگرچہ شریر اِس ساکرامنٹ میں شریک ہوتے ہیں لیکن وہ سزا کے حقدار ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ اِس کی سچائی کو قبول نہیں کرتے۔
دوسری، عشائے ربانی میں شریک ہونے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ وفاداری اور دِین داری کی زندگی گذاریں۔ 2 کرنتھیوں 5:13 خود احتسابی کے بارے میں بیان کرتی ہے، تم اپنے آپ کو آزماؤْ کہ ایمان پر ہو یا نہیں۔ اپنے آپ کو جانچو۔ کیا تم اپنی بابت یہ نہیں جانتے کہ یسوع مسیح تم میں ہے؟ ورنہ تم نامقبول ہو۔
یہ حوالہ ہمیں یہ جانچنے کے لیے نہیں کہتا کہ آیا ہم ایمان دار ہیں یا نہیں بلکہ یہ جانچنے کے لیے کہ آیا ہم ایمان کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں یا نہیں۔ جو شخص ایمان دار نہیں، وہ حقیقت میں اپنے آپ کو نہیں پرکھے گا اور اگر ایسا کرنے کی کوشش بھی کرے تو دھوکا کھائے گا (یرمیاہ 9:17)۔ لیکن ایمان دار کو مسلسل اپنا جائزہ لینے، اپنے آپ کو پرکھنے اور یہ یاد رکھنے کے لیے بلایا گیا ہے کہ یسوع مسیح اُس میں سکونت کرتا ہے۔ جب وہ اِس حقیقت کو اپنے ذہن میں رکھے گا تو دنیا کی راہوں پر نہیں چلے گا۔
خداوند کے بدن کو پہچاننے کے لیے مناسب عمر اور سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔ اِس لیے چھوٹے بچوں اور اُن لوگوں کو، جنہوں نے ابھی تک کافی تعلیم حاصل نہیں کی، خداوند کی میز پر نہیں آنا چاہیے۔ اُن کے لیے پہلے ضروری ہے کہ وہ کھانے اور پینے میں مسیح کو جاننے اور پہچاننے کے قابل ہوں۔
یہ کلیسیا پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا وند کی میز پر آنے کے لئے تعلیم دے اور تیار کرے۔ لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ اِس ذمہ داری کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ صرف اِسی فرض منصبی کو پورا کرنے کے ذریعے کلیسیا خداوند کی سزا اور تادیب سے بچ سکتی ہے (1 کرنتھیوں 30:11-32)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.