Menu Close

Dying and Death: Getting Rightly Prepared for the Inevitable

Reading Time: 2 minutes

This excerpt is taken from Dying and Death: Getting Rightly Prepared for the Inevitable by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

موت اور وفات: ناگزیر حقیقت کے لیے درست تیاری
ٖٖمصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
موت اور وفات ایک نہایت گہری، کرب ناک بلکہ خوفناک حقیقت ہیں۔ ہر انسان کو ایک دِن جسم اور روح کی جدائی کا سامنا کرنا ہے۔ موت کے وقت ہماری روح ایک ایسے عالم میں داخل ہو گی جو اُس کے لئے مقرر ہے، فردوس میں یا جہنم میں۔
عقلی طور پر ہم جانتے ہیں کہ موت حقیقی اور یقینی ہے لیکن جذباتی اور روحانی طور پر اِس حقیقت کو قبول کرنا ہمارے لئے اکثر مشکل ہوتا ہے۔ ہم اپنی وصیت لکھنے اور اپنے جنازے کی تیاری کو ٹالتے رہتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بھی مشکل ہوتا ہے کہ کچھ دیر تک کسی تابوت کے پاس کھڑے رہیں تاکہ موت کی حقیقت ہمارے اندر گہرائی تک اُتر جائے۔ اِسی لئے ہم موت کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے ’’وفات پا گئے‘‘ یا ’’دنیا سے رخصت ہو گئے‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ہم لفظ قبرستان کہنے کی بجائے ’’شہرِ خموشاں یا شہرِ رفتگاں‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی صرف دس منٹ بیٹھ کر یہ سوچا ہے کہ ایک دن آپ کو مرنا ہے اور موت کے بعد بھی ایک زندگی گزارنی ہے؟ فطری طور پر ہمارے لئے ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ مسیحیوں کے لئے بھی یہ آسان نہیں۔ ہم کسی دوسرے ملک میں دو ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لئے کئی گھنٹے منصوبہ بندی میں صرف کرتے ہیں لیکن ابدی زندگی کی تیاری کے لئے شاید ہی ایک گھنٹہ بمشکل نکال پاتے ہیں۔
ہمیں روحانی، اخلاقی اور جسمانی طور پر مرنے کے لئے تیار ہونا چاہیے تاکہ ہماری موت ہمارے لئے ’’نفع‘‘ ہو (فلپیوں 21:1)۔ اِسی لئے مارٹن لوتھر (1483ء–1546ء) نے کہا تھا کہ ’’ہر انسان کو دو کام خود کرنے ہوتے ہیں، ایمان لانا اورموت کا سامنا کرنا‘‘۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply