Prosperous Wicked and Plagued Saints is a commentary on Psalm 73 that sets forth the truth of God’s goodness to his people in their trouble and of God’s curse on the wicked in their prosperity.
شریروں کی اقبال مندی اور آفت زدہ مقدسین
زبور 73 کی تفسیر
مصنف: ڈیوڈ جے اینگلزما
ترجمہ و تالیف: ریورنڈ معظم پال
تعارف
سرنامے کے مطابق زبور 73 آسف کی تصنیف ہے۔ آسف ایک لاوی تھا۔ داؤد بادشاہ نے آسف کو یروشلیم میں لوگوں کے آگے خدا کے صندوق کے سامنے خدا کی پرستش میں گانے اور ساز بجانے کی خدمت کے لیے مقرر کیا تھا (1 تواریخ 15: 16، 17 اور 19 ، 1 تواریخ 16: 4 ، 5، 7، 37 ، 1 تواریخ 25: 1، 2 ، 6 اور 7)۔ داؤد نے یہ تقرری یروشلیم میں عہد کے صندوق کو فتح مندی کے ساتھ لانے کے موقع پر کی تھی (1-تواریخ 15، 16)۔ ایک صاحبِ استعداد موسیقار کے طور پر آ سف نے گانے والے لاویوں کے دستے کی قیادت کی۔ وہ جھانجھ بجا کر گانے والوں کا ساتھ بھی دیتا تھا ’’اوّل آسف اور اُسکے بعد زکریاہ اور یعی ایل اور سمیرا موت اور یحیٔیل اور متِتّیاہ اور الیاب اور بنایاہ اور عوبیدادوم اور یعی ایل ستار اور بربط کے ساتھ اور آسف جھانجھوں کو زور سے بجاتا ہوا“ (1 تواریخ 16: 5)۔ سینکڑوں سال بعد یہوداہ کی اسیری سے واپسی کے بعد بھی آسف کی اولاد اپنے اِس جلیل القدر بزرگ کی موسیقی کی خدمت کو انجام دیتی رہی (عزرا 41:2 ، عزرا 10:3، نحمیاہ 7: 44 ، نحمیاہ 11: 17اور 22 ، نحمیاہ 12: 35 تا 36)۔
یہ گیت الہامی زبور تھے۔ آسف نے جو موعودہ قوم کے لئے موسیقی تیار کرتا، اس کی رہنمائی کرتا اور ساتھ گاتا بھی تھا، کم از کم بارہ زبور لکھے۔ ایک زبور، زبوروں کی دوسری کتاب میں ملتا ہے یعنی زبور 50۔ باقی گیارہ زبور بشمول زبور 73 تیسری کتاب میں شامل ہیں یعنی زبور 73 تا 83۔ اِن زبوروں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسف بدکار لوگوں کے ساتھ خدا کے لوگوں کی جنگ کا گہرا احساس رکھتا تھا اور وہ مُقدّسین کے دکھوں اور کشمکش سے خوب واقف تھا۔
مزامیر کی کتاب سبق آموز ہے۔ بہت سے گیتوں کے برعکس اور یقیناً اِن بے مقصد گیتوں کے بالکل برعکس جن سے جدید بشارتی کلیسیاؤں کا ایک بڑا حصہ اپنا دل بہلاتا ہے زبور درست اور سچی تعلیم پیش کرتے ہیں۔ خدا کی تمجید میں زبور گاتے ہوئے، پرستش کرنے والی جماعت تعلیم بھی حاصل کرتی ہے۔ زبور 73 کی تعلیم یہ خوشخبری ہے کہ خدا اپنے برگزیدہ لوگوں کو روزمرہ کی زمینی زندگی کے تمام حالات میں برکت دیتا ہے۔ آیت 1 اِس انجیل کا بیان کرتی ہے ’’بَیشک خُدا اِسرائیل پر یعنی پاک دِلوں پر مہربان ہے‘‘۔ اِس کا واضح اور لازمی اطلاق یہ ہے کہ خدا غیر تائب شریروں کو برکت نہیں دیتا۔ یہ زبور 73 کی تعلیم کے صرف ایک اطلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ اِس زبور کی واضح تعلیم ہے کہ’’یقیناً تُو اُن کو پھِسلنی جہگوں میں رکھتا ہے‘‘ (آیت 18)۔
زبور 73 اِس مسئلے کا واضح حل ہے کہ آیا خدا فضل اور مہربانی کے ساتھ شریروں کو اُن کی زمینی زندگی کی اچھی چیزوں میں برکت دیتا ہے یا نہیں۔ یہ ایک نظریاتی مسئلہ ہے۔ یہ عام فضل کا مسئلہ ہے۔ عام فضل شریروں کی اقبال مندی کی وضاحت اِس طرح کرتا ہے کہ یہ اُن پر خُدا کی مہربانی اور محبت کا ثبوت ہے جو خُدا تاریخ میں اُن سے کرتا رہا ہے۔ خدا کے عام فضل کا عقیدہ نہ صرف کلیسیاؤں میں غالب نظریہ ہے بلکہ یہ بے دین دنیا میں بھی ایک عام مفروضہ ہے۔ غیر ایماندار مرد و خواتین اپنی دولت اور آرام دہ زندگیوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہتے ہیں’’ہم مبارک ہیں‘‘۔
آیا خُدا واقعی شریروں کو برکت دیتا ہے؟ یہ سوال خُدا سے ڈرنے والے مرد و زن کے لیے بڑی عملی اہمیت رکھتا ہے۔ زبور 73 میں یہ مسئلہ ایک فوری اور عملی سوال کی صورت میں سامنے آتا ہے ’’کیا خدا واقعی بَدکاروں کو برکت دیتا ہے جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے؟‘‘ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ وہ دِین دار لوگوں کو اپنی ناراضی میں سزا دیتا ہے کیونکہ اس کے برعکس دِین دار لوگ ہر قسم کی مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اور اگر یہ سچ ہے یعنی اگر شریروں کی اقبال مندی خُدا کی برکت ہے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ راستبازوں کی مصیبت خُدا کی سزا ہے تو دِین دار لوگوں پر اس کا اثر روحانی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ فرض کر لینا کہ خُدا شریروں کو برکت دیتا ہے اور راستبازوں پر لعنت نازل کرتا ہے زبور نویس پر ایسا اثر ڈالتا تھا ’’لیکن میرے پاؤں تو پھِسلنے کو تھے۔ میرے قدم قریباًٍ لغزِش کھا چُکے تھے‘‘(آیت 2)۔ اس سے روحانی گراوٹ، روحانی زوال اور روحانی تباہی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
اگر یہ سچ ہے جیسا کہ عام طور پر یقین کیا جاتا اور سکھایا جاتا ہے کہ خُدا شریروں کو برکت دیتا ہے تو خُدا کا فرزند یہ نتیجہ نکالے گا کہ ”یقیناً میَں نے عبث اپنے دِل کو صاف اور اپنے ہاتھوں کو پاک کیا‘‘(آیت 13)۔ یہ روحانی مایوسی ہے۔ زبور 73 کی خوش خبری اس مسیحی کو اس مایوسی سے بچاتی ہے جس کی اس شک سے اپنی روحانی بنیادوں کھوکھلی ہو گئی ہیں کہ خُدا بَدکاروں پر مہربان ہو سکتا ہے۔’’بَیشک خُدا اِسرائیل پر یعنی پاک دِلوں پر مہربان ہے‘‘(آیت 1)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.