Menu Close

Preface – Prosperous Wicked and Plagued Saints

Reading Time: 2 minutes

Prosperous Wicked and Plagued Saints is a commentary on Psalm 73 that sets forth the truth of God’s goodness to his people in their trouble and of God’s curse on the wicked in their prosperity.

شریروں کی اقبال مندی اور آفت زدہ مقدسین
زبور 73 کی تفسیر
مصنف: ڈیوڈ جے اینگلزما
ترجمہ و تالیف: ریورنڈ معظم پال
پیش لفظ

زبور 73 خدا کے ہر ایماندار فرزند کو ایک نبردآزما طاقتور اور خطرناک آزمائش میں حوصلہ بخشتا ہے۔ یہ آزمائش زمینی زندگی کی تکالیف کی وجہ سے خدا کی مہربانی پر شک کرنا ہے کیونکہ ایماندار مصیبت زدہ ہیں۔ اِس آزمائش کو مزید تقویت اِس بات سے بھی ملتی ہے کہ دنیاوی زندگی کے حالات میں ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے خدا غیر ایماندار شریروں پر بھی مہربان ہے کیونکہ شریر اقبال مند ہوتے ہیں۔
اِسی وجہ سے زبور 73 کی درست تفسیر انتہائی فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔ خدا کے لوگوں کو زبور 73 میں موجود کلام کی مدد کی اشد ضرورت ہے اور جس طرح پرانے عہد نامے میں قوم اسرائیل کو اِس کی ضرورت تھی آج بھی اِس کی اُتنی ہی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں ایک اور وجہ بھی ہے کہ کیوں تمام مسیحیوں کے لئے زبور 73 کی وضاحت اور اطلاق مفید ہے۔ یہ زبور خدا کے عام فضل کی غلط العام تعلیم کو بے نقاب اور ختم کرتا ہے کہ شریروں کی اقبال مندی واقعی اُن پر خدا کی مہربانی ہے۔ تاہم زبور 73 کی واضح ہدایات کی مخالفت کرتے ہوئے عام فضل کی یہ تعلیم شدید آزمائش میں مبتلا خدا کے کمزور بندے کو تباہ یا ناامید کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ اگر شریروں کی اقبال مندی فضل ہے تو ایماندار کے مصائب کی وجہ خدا کی ناراضی ہے۔ یوں عام فضل زبور 73 کے دوسرے اہم مضمون کا صاف انکار ہے کہ شریروں کی اقبال مندی تباہی کی طرف جانے والی ’’پھسلنی جگہوں‘‘ کے سوا کچھ نہیں اور یہ زبور 73 کے اِس مرکزی مضمون کی بھی نفی کرتا ہے کہ ’’بیشک خدا اسرائیل پر یعنی پاک دلوں پر مہربان ہے‘‘۔
مزید برآں مجھے زبور 73 پر لکھی گئی کسی ایسی تفسیر کا علم نہیں ہے جو ایمانداروں کو اُن کے نامساعد زمینی حالات کے پیشِ نظر تسلی دینے اور اُس خوف کو دور کرنے کے اصل مقصد کا حق ادا کرتی ہو کہ خدا شریروں کو اُن کی موجودہ اقبال مندی میں برکت دیتا ہے بلکہ اکثر تفاسیر تو زبور کے اِس اصل موضوع پر بات تک نہیں کرتیں۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ’’عام فضل‘‘ کا کوئی بھی حامی زبور 73 کا اعتراف کرنے کی جرات نہیں کرتا بلکہ یہ تو دور کی بات ہے۔
بنیادی طور پر اِس کتاب کی تفسیر کا آغاز پروٹسٹنٹ ریفارمڈ چرچز کے تھیولوجیکل سکول میں طلبا اور اساتذہ کے سامنے ہفتہ وار چیپل میں کی جانے والی مشقوں میں پیش کئے جانے والے تفسیری وعظ کے سلسلے کی صورت میں ہوا تھا اور پھر طلبا اور میرے ہم منصب ساتھیوں کے پرزور اصرار پر ہی میں نے اِس تفسیر کو شائع کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply