This excerpt is taken from How Should We Consider Christ in Affliction? by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
مصیبت کے بیچ مسیح میں خدا کے وعدے
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
مصیبت کے بیچ مسیح میں خدا کے وعدوں سے مستفیض ہونے کے بارے میں پیوریٹن مصنفین ہمارے لئے چند رہنما اصول بیان کرتے ہیں۔
پہلا اصول، کچھ ایسی بائبلی آیات منتخب کریں جو آزمائشوں کے دوران میں مسیح کی حضوری اور حفاظت کی یقین دہانی کے بارے میں بیان کرتی ہیں اور اُن پر غور و فکر کریں تاکہ جب مشکل وقت آئے تو آپ مدد اور تسلی سے محروم نہ ہوں۔ اِس طرح آپ اپنے دِل کو پہلے ہی آزمائشوں کے لیے تیار کر لیں گے اور جب مشکلات آئیں گی تو آپ گھبرائیں گے نہیں کیونکہ آپ اِس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ مسیح آپ کے ساتھ ہے اور وہ آپ کو سنبھالے گا اور محفوظ رکھے گا۔
دوسرا اصول، مسیح میں خدا کے وعدوں سے محض اتفاق نہ کریں یعنی اُن پر صرف رضامندی ظاہر نہ کریں بلکہ اُن وعدوں پر پختہ ایمان رکھیں جیسے ایک بوڑھا شخص اپنی لاٹھی پر رکھتا ہے کہ وہ اُسے گرنے نہیں دے گی۔ اینڈریو گرے بیان کرتا ہے، اگر آپ اپنی جانوں کو برباد نہیں کرنا چاہتے تو خدا کے وعدوں سے مستفیض ہوں اور اپنی حالت پر اُن کا اطلاق کریں۔ کیا خدا کے وعدے ہی آپ کی زندگی کا سہارا نہیں ہیں؟ کیا وہ تمام مقدس لوگ جو ہم سے پہلے آسمان پر گئے، خدا کے وعدوں پر بھروسا کرتے ہوئے زندگی گذارتے ہوئے آسمان پر نہیں پہنچے؟
تیسرا اصول، یاد رکھیں کہ جب آپ مصیبتوں اور سخت آزمائشوں سے گزرتے ہیں تو مسیح نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ آپ کی مدد کرے گا، آپ کو مضبوط اور قائم رکھے گا (زبور 9:9 ، 4:37 اور 39–40)۔ اور مسیح کی طرف سے ملنے والی بھرپور تسلی اور اطمینان آپ کی پریشانیوں اور دکھوں پر غالب آئے گا بالکل اُسی طرح جیسے روشنی تاریکی کو دور کر کے ہر چیز کو روشن کر دیتی ہے (زبور 4:112 ، میکاہ 8:7–9 ، 2 کرنتھیوں 5:1)۔
چوتھا اصول، مسیح میں خدا کے وعدوں پر مضبوط ایمان ہمیں مصیبت کے وقت صبر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جیسا کہ گرے بیان کرتا ہے، اگر آپ اپنی مصیبت کی تاریک ترین گھڑی میں ایمان سے یہ پوچھیں کہ وہ خدا کے بارے میں اور آپ کی موجودہ حالت کے بارے میں کیا سوچتا ہے تو ایمان آپ کو نہایت خوبصورتی سے جواب دے گا، خدا سے اُمید رکھ، میں پھر اُس کی ستایش کروں گا۔ اگرچہ اِس میں دیر ہو تو بھی اِس کا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئے گی۔
پانچواں اصول، اپنی مصیبت اور آزمائش کی گھڑی میں خدا کے حضور جائیں اور کہیں، خداوند، تو اپنے عہد کے مطابق مجھے ایسی صلیب اور ایسی مصیبت سے رہائی بخشے گا۔ تو نے فرمایا ہے کہ شرارت کا عصا صادقوں کی میراث پر قائم نہ ہوگا۔ تو ہمیں آزمائش میں ڈالتا ہے لیکن ہماری برداشت کی طاقت سے زیادہ نہیں اور جو کچھ تو ہونے دیتا ہے وہ ہماری بھلائی کے لیے ہوتا ہے۔ تیرا ہاتھ مجھے پاک کرے اور مجھے ایمان اور صبر بخشے تاکہ میں تجھ پر آس رکھوں اور تیرے انتظار میں قائم رہوں، مجھے حکمت دے تاکہ میں اس تادیب سے سبق سیکھوں۔ یہ میری گندگی سے مجھے پاک کرے اور مجھ میں راست بازی کا پھل پیدا کرے۔
چھٹا اصول، اپنی مشکلات کو مسیح کے ساتھ گہری رفاقت اور شراکت کا ذریعہ بنائیں۔ مشکلات میں خدا کے وعدوں کو یاد کریں اور ان پر ایمان رکھیں۔ پھر ایمان کے ساتھ دعا کریں کیونکہ دعا میں آپ مسیح کو پائیں گے (یرمیاہ 10:29–14 ، میکاہ 7:7)۔
ساتواں اصول، اپنی دعاؤں میں اُس اُمید کو مانگیں جو خدا کے وعدے مصیبت کے وقت آپ کو عطا کرتے ہیں۔ یہ نہ پوچھیں کہ آپ اپنی آزمائش سے کب نجات پائیں گے بلکہ یہ پوچھیں کہ آپ کی یہ آزمائش آپ کو کیا سکھانے اور عطا کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ چونکہ خداوند نے اِس آزمائش کو آپ کی بھلائی کے مقصد کے لئے آپ کی زندگی میں آنے دیا ہے، اِس لیے دعا کریں کہ یہ آزمائش آپ کی روحانی تقدیس اور پاکیزگی کا وسیلہ بنے۔ دعا کریں کہ خدا اِس کے ذریعے آپ کے دِل اور زندگی میں شفا اور بحالی کا کام کرے اور اِس آزمائش کے اثرات آپ کی اصلاح اور تربیت کا سبب ٹھہریں اور آزمائش کے دوران بھی اور مابعد خوشی اور شادمانی کا ذریعہ بنیں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.