The following article, Is Jesus God? was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
کیا یسوع خدا ہے؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
ہمارے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ آپ کی کلیسیا خداوند یسوع مسیح کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتی ہے؟ کیا وہ ہی سب کچھ ہے؟ کیا وہ خدا ہے؟
ہم پورے دِل سے اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح خدا کا اکلوتا بیٹا ہے اور سب باتوں میں خدا باپ کے برابر ہے۔
یہ سچائی پوری بائبل مقدس میں واضح طور پر ظاہر کی گئی ہے۔ جیسے پرانے عہد نامہ کے یہ حوالہ جات واضح طور پر اِس کی تعلیم دیتے ہیں جیسے کہ زبور 6:45، اے خدا! تیرا تخت ابدالآباد ہے، یسعیاہ 6:9، اُس کا نام عجیب مشیر،خدایِ قادر۔۔۔ اور میکاہ 2:5، اُس کا مصدرزمانہِ سابق ہاں قدیم الایام سے ہے۔
نئے عہد نامہ میں ایسی آیات موجود ہیں جو براہِ راست بیان کرتی ہیں کہ یسوع خدا ہے اور باپ کے برابر ہے ([یوحنا 1:1]، [18:5]، [58:8]، [رومیوں 5:9] اور [1 تیمتھیس 16:3]) اور بہت سی دیگر آیات اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ([متی 27:8]، [یوحنا 24:4-25]، [کلسیوں 15:1]؛ [عبرانیوں 3:1 اور 8])۔
وہ خدا کے ناموں کا حامل ہے ([یوحنا 58:8]، [28:20])، خدا کی صفات رکھتا ہے ([میکاہ 2:5]، [یوحنا 17:21]، [مکاشفہ 8:1])، خدا کے کام انجام دیتا ہے ([یوحنا 14:1]، [کلسیوں 16:1-17]، [عبرانیوں 3:1]، [لوقا 20:5-24]، [یوحنا 21:5]) اوروہ عبادت قبول کرتا ہے جو صرف خدا ہی کے لیے مخصوص ہے ([متی 8:2]، [9:28 اور 17]، [عبرانیوں 6:1] کا موازنہ [متی 9:4-10])۔
بائبل مقدس کے جدید تراجم پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اکثر اِس سچائی کو کمزور یا مبہم کر دیتے ہیں۔ 1 تیمتھیس 16:3 کا نیو انٹرنیشنل ورژن میں ترجمہ اِس کی ایک مثال ہے۔ کنگ جیمز ورژن میں بیان ہوا ہے، خدا جسم میں ظاہر ہوا جبکہ نیو انٹرنیشنل ورژن میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ وہ جسم میں ظاہر ہوا۔ اِس طرح مسیح کی الوہیت کی سچائی کو مبہم کر دیا گیا ہے۔
یہ سچائی کہ یسوع خدا ہے، مسیحیت کی بنیاد ہے۔ جو لوگ اِس کا انکار کرتے ہیں، اُنہیں مسیحی یا کلیسیا کے طور پرقبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ بہ طور بدعتی (یہوواہ وٹنس، مارمنز، کرسچن سائنٹسٹس وغیرہ اِس کی مثالیں ہیں) ردّ کرنا چاہیے۔ اگر یسوع کامل خدا نہیں تو اُس کا کلام کوئی الٰہی اختیار نہیں رکھتا اور اُس کا کام نجات بخش قدرت سے خالی ہو جاتا ہے۔ اُس کی تعلیم بے معنی ہو جاتی ہے، اُس کی قربانی نجات بخش نہیں رہتی، اُس کی بادشاہی دوسری بادشاہتوں سے بہتر نہیں رہتی، اُس کے وعدے کوئی تسلی نہیں دیتے اور اُس کی زندگی ہمارے لیے کوئی مضبوط نمونہ نہیں رہتی۔ اگر وہ خدا نہیں ہے تو ہمارا ایمان بے فائدہ ہے اور ہم اب بھی اپنے گناہوں میں ہیں۔
لہٰذا یہ اقرار کہ یسوع خدا کا اکلوتا بیٹا ہے اور ہر بات میں اپنے باپ کے برابر ہے محض ایک اہم عقیدہ نہیں بلکہ ہماری ساری اُمید کی بنیاد، ہماری تمام خوشی کا سرچشمہ اور ہماری نجات کی واحد راہ ہے۔
کیا آپ یسوع مسیح کو خدا کے طور پر جانتے, اِس بات کا اقرار کرتے اور اُس کی پیروی کرتے ہیں؟
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.