The following article, Living Like the Devil? was originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
شیطان کی طرح زندگی گزارنا؟
ترجمہ کار: ارسلان الحق
کیا ہمارے باپ دادا کا ایمان ہماری زندگی میں زندہ ہے یعنی عملی طور پر نظر آتا ہے؟ کیا وہ ہماری کلیسیا میں زندہ ہے؟ بلاشبہ ہمارا ایمان زندہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ایمان کہاں نظر آتا اور اِس کا کہاں اقرار کیا جا رہا ہے؟ اور ہمارے باپ دادا کا ایمان کیا تھا؟ ہمارے آبائے کلیسیا نے تقریباً 350 سال پہلے مجلس ڈورڈریکٹ (نیدرلینڈز) میں بائبل مقدس کی تعلیم کو پانچ اہم نکات میں بیان کیا۔ اُنہیں یاد رکھنے کے لیے انگریزی لفظ ٹیولپ (ٹی یو ایل آئی پی) کو بہ طور مخفف استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹی: اِنسان کی فطرت کا مکمل بگاڑ
یو: غیر مشروط برگزیدہ
ایل: مخصوص کفارہ
آئی: ناقابل مزاحمت فضل
پی: مقدسین کی استقامت
کالوینیت کے اِن پانچ نکات میں آخری نکتہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدا اپنے لوگوں کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کو نجات مل گئی تو آپ ہمیشہ کے لیے نجات یافتہ ہیں۔
خدا کا کلام اِس خوبصورت سچائی کے اثبات سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اِس تعلیم کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ بار بار نجات پا سکتے ہیں اور پھر برگشتہ ہو سکتے ہیں اور اِس لئے آپ کبھی اپنی نجات کے بارے میں کامل یقین نہیں رکھ سکتے لیکن بائبل مقدس اِس کے برعکس تعلیم دیتی ہے۔ اپنی برگزیدہ بھیڑوں کے بارے میں یسوع نے فرمایا، اور میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابدتک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا (یوحنا 28:10 کا موازنہ کریں 39:6 ، 2:17، 11-12 ، رومیوں 37:8-39 ، 2 تیمتھیس 12:1 اور 18:4)۔
بعض لوگ اِس عقیدے پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں یہ انسان کو اپنی نجات کے بارے میں جسمانی بے فکری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے معلوم ہو کہ جب ایک مرتبہ خدا نے مجھے نجات دے دی تو کوئی چیز مجھے جہنم میں نہیں پہنچا سکتی تو میں شیطان کی طرح زندگی گزاروں گا۔ کچھ لوگ ایسے ضرور رہے ہیں جنہوں نے اِس خوبصورت سچائی کو شیطان کی طرح زندگی گزارنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ لیکن وہ مسیحی نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ اِس سچائی کو سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ سچائی مقدسین کے ثابت قدم رہنے کو بھی شامل کرتی ہے۔ جو لوگ کبھی ایمان سے برگشتہ نہیں ہوتے، وہ مقدسین ہیں۔ وہ پاک ہیں۔ اور انہیں پاکیزہ زندگی گزارنے کی قوت دِی جاتی ہے۔ وہ نیک کام کرنے میں ہمت نہیں ہارتے (ملاحظہ ہو گلتیوں 9:6)۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ وہ شیطان کی طرح زندگی گزار سکتا ہے، اُس نے مسیح کی نجات بخش قدرت کا تجربہ ہی نہیں کیا اور وہ فلپیوں 6:1 کا مطلب ہی نہیں جانتا، اور مجھے اِس بات کا بھروسا ہے کہ جس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دِن تک پورا کر دے گا۔ جب تک مسیح واپس نہیں آتا، خدا ہم میں نیک کام جاری رکھے گا۔ اِس تعلیم کے برعکس مت سوچیں۔
کیا اِس عقیدے کے بغیر مسیحیوں کے لئے کوئی امید ہے؟ ہمیں آسمان پر جانے کے لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں تسلّی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر نجات یافتہ قائم رہنا ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا تو ہم کبھی ایسا نہ کر پاتے۔ ہم خود سے اچھی طرح واقف ہیں۔ خدا کے فضل کے بغیر ہم میں کوئی طاقت نہیں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.