Menu Close

Prepare Faithfully For Worship

Reading Time: 2 minutes

This excerpt is taken from the Puritan Reformed Journal, Volume 9, Number 2, July 2017. It was written by Joel R. Beeke and translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

عبادت کے لئے وفاداری سے تیاری
ٖٖمصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
پیوریٹن اِس بات کے قائل تھے کہ روح القدس کے کام کے بغیرعبادت کے لئے ہماری تمام تر تیاری آخرکار بے فائدہ ہے۔ اسٹیفن چارنک کے مطابق، ہماری عبادت حقیقی معنوں میں روحانی ہو، اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہر بارعبادت کے آغاز سے پہلے ہم روح القدس کی حقیقی حضوری کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ اِس کے بغیر ہم روحانی طور پر نہ تو سانس لے سکتے ہیں اور نہ ہی دِل سے آہ و زاری کر سکتے ہیں۔ ہم ایسے بے بس ہو جاتے ہیں جیسے ہوا کے بغیر بحری جہاز آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ایسی صورت میں ہماری عبادت بھی محض ظاہری اور جسمانی رہ جاتی ہے۔ (چارنک، کام، جلد 1، صفحہ نمبر 300)۔
عبادت کی تیاری وفاداری کے ساتھ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دعا کو ترجیح دیں۔ اجتماعی عبادت کی تیاری میں یہ عمل نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ دعا ایک سادہ اور عام عمل ہے جس کے ذریعے خدا ہمیں اپنا خاص فضل عطا کرتا ہے۔ جان اوون کے مطابق، ہر فرض کی ادائیگی کی تیاری کی بنیاد دعا ہے۔ مزید یہ کہ دعا وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے ہر معاملے کے لئے مسیح کے وسیلے خدا پر اپنے ہر طرح کے انحصار کا اظہار کرتے ہیں۔ دعا ہمارے باطن میں ہماری کمزوری اور ضرورت کا احساس پیدا کرتی ہے اور ہمیں اپنی خاص ضروریات خدا کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نیز دعا ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم خدا کا فضل، شفقت اور روحانی قوت کی وہ فراہمی حاصل کرتے ہیں جس کے ہم محتاج ہیں تاکہ خدا کا جلال ظاہر ہو اور ہماری جانیں پاکیزگی اور اطمینان میں ترقی کریں (اوون، خداوند کے دِن کی عملی پابندی، جلد 19، صفحات 455–456)۔
عبادت سے پہلے دعا کرنا ہمیں خدا سے برکتیں حاصل کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ الٰہی فضل کے فوائد جو خداوند کے دِن کے مقرر کردہ عبادتی دستورات کے ذریعے جاری ہوتے ہیں، ہماری محنت یا کارکردگی پر منحصر نہیں بلکہ بھلائی کرنے والے اور بخشش عطا کرنے والے آسمانی باپ پر منحصر ہیں۔ دعا ہمارے دِل کی گہرائی سے نکلنی چاہیے۔ واٹسن کے مطابق، ہمیں تعظیم، فروتنی، جوش اور خدا کی شفقت پر بھروسے کے ساتھ دعا کرنی چاہیے ۔۔۔ سب سے زیادہ جوش سے وہی شخص دعا کرتا ہے جو دِل کی گہرائی سے دعا کرتا ہے (واٹسن، دس احکام، صفحہ 106)۔ عبادت کرنے والے کی سچی دعا وہ ہے جو ہمارے جلالی اور محبت کرنے والے خدا کے لیے گہری محبت سے لبریز ہو۔ خدا کو صحیح طور پر جاننا ہمارے دِلوں کو آگاہی بخشتا اور جوش سے بھر دیتا ہے اور ہمیں ایمان سے بھرپور دعا میں گھٹنوں کے بل جھکا دیتا ہے تاکہ ہم عبادت کے لیے تیار ہوں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply