Menu Close

Reformed Systematic Theology

Reading Time: 2 minutes

This excerpt is taken from Reformed Systematic Theology, Volume 1, by Joel R. Beeke, published by Crossway. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

اِصلاح شدہ منظم علم الٰہی
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی

مترجم: ارسلان الحق
الہٰیات خدا کے کلام کو سننے سے تشکیل پاتی ہے اور دعا کے ذریعے جنم لیتی ہے۔ اے خداوند! اپنی راہیں مجھے دِکھا۔ اپنے راستے مجھے بتا دے (زبور 4:25)۔ الہٰیات یقیناً دعا ہی سے وجود میں آئی اور اِس کا آغاز اُس وقت ہوا جب خدا نے اپنے فضل سے ہمیں یہ سکھایا کہ ہم خداوند کا نام لیں [پکاریں] (رومیوں 13:10)۔
جس شخص نے بائبل مقدس کو کچھ وقت بھی غور سے پڑھا ہو، اُس نے اِس ضرورت کو محسوس کیا ہوگا کہ میں کیسے سمجھ سکتا ہوں جب تک کوئی میری رہنمائی نہ کرے؟ اگرچہ بائبل مقدس کا بنیادی پیغام حیرت انگیز طور پر واضح ہے لیکن کلامِ مقدس کے بعض حصے گہرے اور پیچیدہ حقائق ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ سمجھ حاصل کرنے کی یہ جستجو ہمیں باریک بینی سے مطالعہ کرنے، احتیاط سے غور و فکر کرنے، دِل سوزی سے دعا کرنے اور اُن مسیحیوں سے مشورہ کرنے کی طرف ہماری رہ نمائی کرتی ہے جو ہم سے زیادہ دانا اور تجربہ کار ہیں۔ پھر ہم خدا کے بارے میں اپنے خیالات کو واضح اور بصیرت افروز نکات کی صورت میں مرتب کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور اِس طرح اُس کی خدمت کے لیے بہتر طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔ یہی الہٰیات پر غور و فکر کرنے کا عمل ہے یعنی اپنے ذہن کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے کلام کی سچائیوں کے ساتھ سنجیدگی سے مشغول ہونا۔
الہٰیات ایک ایسا لفظ ہے جو بعض لوگوں کے لیے پیچیدہ اور بعض کے لیے خوفناک اور پریشان کن ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ الہٰیات پر غور کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ یہ ردِعمل اکثر ایک ایسے نقطۂ نظر سے پیدا ہوتا ہے جس پر مادی فطرت پسندی کا غلبہ ہویعنی یہ عقیدہ کہ صرف وہی چیزیں حقیقی ہیں جنہیں ہم دیکھ اور چھو سکتے ہیں۔ الہٰیات ہمیں ایک ایسی ان دیکھی دنیا سے متعارف کراتی ہے جو اُس دنیا سے کہیں زیادہ بڑی اور زیادہ پائیدار ہے جسے ہم دیکھتے اور چھوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الہٰیات پر غور و فکر کرنا وہ سب سے اہم کام ہے جو کوئی بھی انسان انجام دے سکتا ہے۔ درحقیقت، ہر شخص ایک الہٰیاتی مفکر ہے جیسا کہ آر۔ سی۔ سپرول (1939ء–2017ء) نے کہا ہے۔ ہم الہٰیات سے بھاگ نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ ملحد کا خدا کے وجود کو پُرزور انداز میں رد کرنا بھی ایک الہٰیاتی دعویٰ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری الہٰیات سچی ہے یا جھوٹی۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply