The following article, The Salvation of Adam & Eve, was authored by Rev. Angus Stewart and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
عزت مآب (ریورنڈ)
مصنف: پادری اینگس اسٹیورٹ
ترجمہ کار: ارسلان الحق
کئی قارئین نے سوال کیا ہے کہ کیا خادمینِ دِین کے لیے ریورنڈ کا لقب استعمال کرنا مناسب ہے؟ ایک قاری نے زبور 9:111 کا حوالہ دِیا جہاں خدا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُس کا نام قدّوس (مقدس) اور مہیب (محترم) ہے۔ اِس آیت کو خادمین کو ریورنڈ (عزت مآب، محترم) کہنے کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور اِس کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر ریورنڈ کسی بھی مفہوم میں اِنسان کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تو پھر مقدس بھی اِنسان کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ متن کہتا ہے، اُس کا نام قدّوس (مقدس) اور مہیب (محترم) ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ بائبل مقدس میں مسیحیوں کو بارہا مقدسین (لفظی طور پر، مقدس لوگ) کہا گیا ہے (کلسیوں 2:1)۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ریورنڈ کیا گیا ہے، وہ لوگوں کے کسی اِنسان سے خوف اور اُس کی تعظیم اور ادب کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، تب سب لوگ خداوند اور سموئیل سے نہایت ڈر گئے [یعنی اُن کا ادب کیا] (1 سموئیل 18:12 ، امثال 21:24 بھی ملاحظہ ہو)۔
ایک اور قاری نے پوچھا ہے کہ ریورنڈ کا لقب کسی قابلِ احترام شخص کے معنی رکھتا ہے یا ایک احترام کرنے والے شخص کے؟ اگرچہ ایک خادمِ دِین کو عزت کرنے والا (یعنی خدا کے حضور احترام ظاہر کرنے والا) ہونا چاہیے لیکن ریورنڈ کا لقب اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ قابلِ احترام شخص ہے یعنی ایسا شخص جو اِنسانوں کی طرف سے عزت کے لائق ہو۔
بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ آسمان پر صعود فرمانے والا مسیح اپنی کلیسیا کو چرواہے اور اُستاد عطا کرتا ہے (افسیوں 11:4 ، یرمیاہ 15:3) جو اُس کے ایلچی (2 کرنتھیوں 20:5)، نگہبان (حزقی ایل 17:3) اور فرشتے یعنی پیغام رساں ہیں (مکاشفہ 1:2)۔ اُنہیں اِس خاص عہدے کے لئے مقرر کیا گیا ہے (1 تیمتھیس 14:4 ، 1:3)۔ مسیح کے ماتحت تعلیم دینے والے خادمین (اور کلیسیا کا انتظام کرنے والے بزرگ) آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں (مسیحی ضابطہ) اِستعمال کرتے ہیں (متی 19:16 اور 18:18)۔ خادمِ دین کے عہدے کی اہمیت پر غور کریں اور بغیر منادی کرنے والے کے کیوں کر سنیں؟ (رومیوں 14:10)۔
پس ایک وفادار خادمِ دین عزت کے لائق ہے۔ ہمیں نہ صرف تعلیم دینے اور کلیسیا کا انتظام کرنے والے بزرگوں کی فرمانبرداری اور تابعداری کرنی چاہیے (عبرانیوں 17:13) بلکہ اُن کے ساتھ کمال خوشی کے ساتھ ملنا اور ایسے شخصوں کی عزت کرنا (فلپیوں 29:2)، دو چند عزت کے لائق سمجھنا (1 تیمتھیس 17:5) اور محبت کے ساتھ اُن کی بڑی عزت کرنی چاہیے (1 تھسلنیکیوں 13:5)۔
خدا نے ایسی دنیا پیدا کی ہے جس میں خاندان، کلیسیا، ریاست اور کاروبار میں اختیار رکھنے والے لوگوں کی عزت کرنا لازم ہے (پانچواں حکم بھی ملاحظہ ہو)۔ بچوں، بیویوں، شہریوں اور ملازمین کو بالترتیب اپنے والدین، شوہروں، حکومتی حکمرانوں اورملازمت پر رکھنے والے مالکان کی عزت کرنی چاہیے (عبرانیوں 9:12 ، افسیوں 33:5 ، رومیوں 7:13 ، 1 پطرس 18:2)۔ اِسی لیے ہم لوگوں کو اُن کے عہدوں اور القاب سے پکارتے ہیں، والد، پروفیسر صاحب، عالی جاہ، وزیرِ اعظم صاحب، جناب عالی، انسپکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب وغیرہ۔ اِسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ خدا کے کلام کے خادم کو ریورنڈ کہنا بالکل مناسب ہے۔ چونکہ بائبل مقدس یہ بیان نہیں کرتی کہ ہمیں لازماً خادمین کو جناب، پاسٹر یا ریورنڈ کہہ کر مخاطب کرنا چاہیے اِس لئے جو لوگ یہ القاب استعمال کرنا پسند نہیں کرتے، وہ اُنہیں استعمال نہ کرنے کے لیے آزاد ہیں بشرطیکہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ خدا نے اپنی کلیسیا میں خادمینِ دِین (نیز کلیسیا کا انتظام کرنے والے بزرگ اور ڈیکن صاحبان) کو مقرر کیا ہے اور اُن لوگوں کی اُن کے کام کے سبب سے محبت کے ساتھ اُن کی بڑی عزت کرنی چاہیے (1 تھسلنیکیوں 13:5)۔ اور یاد رکھیں، کلیسیا کے عہدے داروں کی عزت کرتے ہوئے ہم کلیسیا کے سر مسیح کی عزت کرتے ہیں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.