Menu Close

The Salvation of Adam & Eve

Reading Time: 3 minutes

The following article, The Salvation of Adam & Eve, was authored by Rev. Angus Stewart and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

آدم اور حوا کی نجات
مصنف: پادری اینگس اسٹیورٹ
ترجمہ کار: ارسلان الحق
ہمارے ایک قاری نے پوچھا ہے کہ کیا آدم اور حوّا کو خدا کے فضل سے نجات ملی تھی؟
اِس سوال کے دو حصے ہیں، پہلا، کیا آدم اور حوّا کو نجات ملی تھی؟ دوسرا، اگر ملی تھی تو کیسے؟
پہلی بات، ہم کہہ سکتے ہیں کہ حوّا نجات یافتہ تھی۔ خدا نے سانپ سے جو شیطان ہے (مکاشفہ 9:12) کہا کہ اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا (پیدائش 15:3)۔ یہاں ’’عورت‘‘ سے مراد حوّا ہے (موازنہ کریں، 1:3-2، 4 ، 6 ، 12-13 اور 16)۔ گناہ میں گرنے کے باعث، آدم اور حوّا شیطان کے ساتھ متحد ہوگئے اور خدا کے خلاف اُس کی عداوت میں شریک ٹھہرے۔ جب خدا نے شیطان اور ’’عورت‘‘ یعنی حوّا کے درمیان عداوت ڈالی تو اِس کا مطلب تھا کہ خدا حوّا کے ساتھ اُس عہدِ رفاقت کو بحال کر رہا ہے جو گناہ میں گرنے سے پہلے اُس کے ساتھ تھا۔ اِس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ’’چمڑے کے کرتے‘‘(21:3) جو خداوند نے بنائے اور جن سے اُس نے حوّا کو ملبس کیا، نجات کے لباس کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کی کلیسیا نے ہمیشہ سے تعلیم دی ہے۔ اِس لئے یہ بات حیران کن نہیں کہ حوّا بعد میں اِقرار کرتی ہے کہ جو بیٹے اُس کے ہاں پیدا ہوئے، وہ اُسے خداوند کی طرف سے ملے (1:4 اور 25)۔ پس خدا کا حوّا کو ڈھونڈنے کے لیے آنا (8:3) اُس کے فضل سے اُس چیز کو ڈھونڈنے اور نجات دینے کے لیے آنے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کھو گئی تھی (ملاحظہ ہو لوقا 10:19)۔ واضح طور پر، حوّا نجات پا چکی تھی۔
دوسری بات، صرف حوّا ہی نہیں بلکہ آدم بھی نجات یافتہ تھا۔ حوّا نے یہ اِقرار کیا کہ خدا نے اسے قائن اور سیت عطا کئے لیکن کیا ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ آدم کا اپنے بیٹوں کے نام رکھنے یا یہ اِقرار میں کوئی کردار نہیں تھا کہ زندگی دینے والا خداوند خدا ہی ہے؟ اِسی طرح، خدا نے نہ صرف حوّا بلکہ آدم کو بھی ’’چمڑے کے کرتے‘‘ سے ملبس کیا (21:3) جو نجات کی علامت ٹھہرے۔ مزید برآں، خدا نہ صرف حوّا کے پاس بلکہ آدم کے پاس بھی آیا کہ اُن کے گناہ اور بدحالی کو اُن پر ظاہر کرے اور انہیں نجات بخشے (8:3 سے آگے پڑھیں)۔
لیکن اگر آدم اور حوّا نجات یافتہ تھے تو پھر اُنہیں نجات کیسے ملی؟ یقیناً اپنی ’’آزاد مرضی‘‘ یا ذاتی کوششوں کے ذریعے اُنہیں نجات نہیں ملی تھی۔ جب خدا اُنہیں نجات دینے کے لیے آیا تو آدم اور حوّا نے اپنے آپ کو باغ کے درختوں میں چھپایا (8:3) اور اپنے گناہوں کے لیے عذر پیش کرنے لگے (12:3-13)۔ یہ خدا ہی تھا نہ کہ وہ خود، جس نے اُنہیں نجات بخشی۔ خدا نے کہا، اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا (پیدائش 15:3)۔ آدم اور حوّا کے پاس شیطان کی عملداری سے آزاد ہونے کی نہ کوئی طاقت تھی اور نہ ہی کوئی اِرادہ۔ صرف خدا ہی ایسا کرنے پر قادر تھا اور صرف خدا ہی نے اُنہیں چھڑایا۔ اُن کی نجات مکمل طور پر خدا کی طرف سے اور مکمل طور خدا کے فضل ہی سے تھی۔ ہمارے پہلے والدین نے خدا کے حکم کی نافرمانی کی اور ممنوعہ پھل کھایا۔ انہوں نے اِبلیس کی بات کا یقین کیا اور اُس سچے اور زندہ خدا کی بات کا یقین نہیں کیا جس نے اُنہیں خلق کیا تھا اور جس نے اُن کے ساتھ رفاقت قائم کی تھی۔ لہٰذا اُن کی نجات صرف خدا کے حاکمانہ رحم اور بخشش کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔ اور چونکہ اُن کی نجات مکمل طور پر فضل ہی سے تھی، اِس لئے وہ ایمان کے وسیلے سے بھی ہونی چاہیے (افسیوں 8:2)۔ خدا نے آدم اور حوّا کو ایمان بخشا تاکہ وہ عورت کی آنے والی نسل یعنی مسیح پر ایمان لائیں جو صلیب پر شیطان کے سر کو کچلنے والا تھا۔ اور ہم، نیز ہر زمانے میں خدا کے تمام لوگ، اپنے پہلے والدین کی طرح ہی نجات پاتے ہیں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply