Menu Close

Should a Christian Be Involved in Politics?

Reading Time: 3 minutes

The following article was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

کیا ایک مسیحی کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
ہمارے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ کیا ایک مسیحی کے لئے سیاست میں حصہ لینا لازمی ہے؟
یہ خیال مناسب نہیں کہ کسی مسیحی کا سیاست میں حصہ لینا غلط ہے چاہے حکومت کتنی ہی بری یا ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ ماضی میں بہت سی انسانی حکومتیں ایسی رہی ہیں اور آج بھی ایسی حکومتیں موجود ہیں۔ دانی ایل اور نحمیاہ کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایسا کرنا غلط نہیں۔ دونوں نے ایسے حکمرانوں کے لئے گراں خدمت انجام دی جو بے دِین تھے اور خدا پرست نہیں تھے اور خدا نے بھی اُن کی اِس خدمت کو اپنی کلیسیا کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔ اِسی طرح نئے عہدنامے میں جب ایک سردار یسوع کے پاس آیا اور اُس سے پوچھا کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہونے کے لئے اُسے کیا کرنا چاہیے تو یسوع نے اُسے یہ نہیں کہا کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنا عہدہ چھوڑ دے (لوقا 18:18)۔ نہ ہی اِس بات کا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ رومی حکومت میں عہدوں پر فائز افراد جیسے کہ سرگیس پولس (اعمال 6:13-12) ایمان لانے کے بعد اپنے عہدے چھوڑنے کے پابند تھے۔ اِس لئے اگر بائبل مقدس حکومت یا سیاست میں حصہ لینے سے منع نہیں کرتی تو سیاست میں حصہ لینا بھی غلط نہیں ہے۔
یقیناً، سیاست میں حصہ لینے والے مسیحی کو دانی ایل اور نحمیاہ کی مثالوں کی پیروی کرتے ہوئے مسیحی اصولوں کو برقرار رکھنے میں محتاط رہنا چاہیے اور اُسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اُس کی پہلی وفاداری بادشاہوں کے بادشاہ مسیح اور مسیح کی آسمانی بادشاہی کے ساتھ ہے۔ زمینی حکمرانوں کی خدمت کرتے ہوئے بھی اُسے ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو مسیح کی خدمت کے خلاف ہو اور نہ ہی مسیح سے بڑھ کر اُس کی وفاداری کسی اور کے ساتھ ہونی چاہیے۔
تاہم، مسیحیوں کے لیے سیاست میں حصہ لینا کوئی لازمی فرض نہیں ہے۔ اگر ایک مسیحی سیاست میں کوئی دلچسپی نہ لے تو وہ اِس وجہ سے کم تر مسیحی نہیں بن جاتا خصوصاً اِس لئے کہ سیاست بھی اُن دنیاوی چیزوں میں شامل ہے جو فنا ہونے والی ہیں۔ مسیح کی مثال ہمارے لئے اِس سلسلے میں بہت موزوں ہے۔ زمینی حکمرانوں کی بدکاری کی مذمت کرنے اور اپنے پیروکاروں کو اِس بات پر زور دینے کے علاوہ کہ وہ قیصر کا حصہ قیصر کو ادا کریں، یسوع نے رومی سلطنت اور اُس کے حکمرانوں کے سیاسی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ہمیں بھی ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
تاہم، ہم اِس بات پر بھی زور دیں گے کہ اگرچہ ایک مسیحی سیاست میں حصہ لے سکتا ہے لیکن کلیسیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اُس کی واحد ذمہ داری یہ ہے کہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے فضل کی اِنجیل کی منادی کرے نہ کہ سیاسی بیانات جاری کرے یا کوئی سیاسی جماعت بن جائے (متی 19:28 ، 1 تیمتھیس 15:3)۔
جب کلیسیا سیاست میں حصہ لیتی ہے تو اِسی عمل سے وہ اِس حقیقت کا انکار کرتی ہے کہ اِنجیل ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ سیاست انسانوں کے مسائل اور نہ ہی اِس دنیا کی مشکلات کا حل ہے اور نہ ہی مسیح کی بادشاہی کسی بھی مفہوم میں ایک سیاسی بادشاہی ہے۔ مسیح کی بادشاہی سیاسی جدوجہد یا سیاسی عمل کے ذریعے قائم نہیں ہوتی (لوقا 20:17-21 ، یوحنا 36:18)۔
اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو لوگ کلیسیائی عہدوں پر خدمت سرانجام دیتے ہیں خصوصاً خدام دِین، اُنہیں بیک وقت سیاست میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ چونکہ کلیسیا اپنے مقرر کردہ خادمین کے ذریعے اِنجیل کی منادی کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، اِس لئے انہیں بھی کوئی دوسری ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت نہ صرف انہیں کلیسیائی خدمت سے دور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں کلیسیا کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ بالآخر وہ کلیسیا اور سیاست کو آپس میں الجھا دیتے ہیں یعنی سیاسی میدان میں واعظ بننے اور کلیسیا میں سیاست دان بننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
یسوع مسیح کی مثال یہاں بھی ہمارے لیے رہنمائی کا باعث ہے۔ اُس کے لیے سب سے اہم کام ہر جگہ اور ہر وقت خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا تھا۔ کوئی بھی چیز اُسے اِس کام سے نہیں روک سکتی تھی۔ ہمیں بھی اُس کی پیروی کرنی چاہیے۔ تب ہم اپنے رتھوں اور گھوڑوں یعنی اپنی طاقت یا وسائل پر نہیں بلکہ خداوند اپنے خدا کے نام پر بھروسا کریں گے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply