The following article, Should We Practice Footwashing?, was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
کیا ہمیں پاؤں دھونے کی رسم پر عمل کرنا چاہیے؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
کیا ہمیں عشائے ربانی سے پہلے ایک دوسرے کے پاؤں دھونے چاہییں، جیسے یسوع نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے تھے؟ بعض کلیسیائیں اِس رسم پر عمل کرتی ہیں۔
کیا پاؤں دھونا ایک مستقل حکم یا رسم ہے جسے مسیح نے نئے عہدنامے کی کلیسیا میں ادا کرنے کے لیے مقرر کیا؟ ہم یہ نہیں مانتے کہ ایسا ہے۔
وہ رسوم جو نئے عہدنامے کی کلیسیا میں مستقل حکم اور باضابطہ زندگی اور عبادت کا لازمی حصہ ہیں، اُن کی کچھ خاص نشانیاں ہیں، پہلی یہ کہ یسوع مسیح نے اُن کا واضح حکم دیا ہو اور دوسری یہ کہ رسولوں نے اپنی تعلیم یا عمل سے اُن کی تصدیق کی ہو۔ بپتسمہ اور عشائے ربانی اِن دونوں معیارات پر پورا اترتے ہیں لیکن پاؤں دھونے کی رسم نہیں۔
سب سے پہلے، یسوع خود اُس عمل کو جو اُس نے عشائے ربانی کی رات کیا، ایک نمونہ کہتے ہیں (یوحنا 15:13)۔ حقیقت بھی یہی ہے۔اُس نے یہ نہیں کہا کہ وہی کام کرو جو میں نے کیا بلکہ یہ کہ جَیسا میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے تم بھی کیا کرو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یسوع یہاں لفظی طور پر پاؤں دھونے کی رسم قائم نہیں کر رہا بلکہ ہمیں ایک دوسرے کی فروتنی کے ساتھ خدمت کرنے میں اپنی مثال پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے (افسیوں 21:5، فلپیوں 3:2-8)۔
دوسری بات، رسولوں کی تعلیم یا عمل میں کہیں بھی یہ بات نہیں ملتی کہ پاؤں دھونا کلیسیا کی ایک مستقل رسم تھی۔ 1 تیمتھیس 10:5 بھی یہ ثابت نہیں کرتی۔ وہاں پاؤں دھونا کلیسیا کی عبادت کا حصہ نہیں بلکہ محبت اور خدمت کے ایک ذاتی عمل کے طور پر مذکور ہے۔ اُس کے ساتھ بچوں کی تربیت، مہمان نوازی اور مصیبت زدوں کی مدد جیسے کام بھی تحریر کئے گئے ہیں۔
اگر کوئی شخص عاجزی اور محبت سے کسی مسیحی بھائی یا بہن کے پاؤں دھونا چاہے تو ہمیں اُس پر اعتراض نہیں۔ لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ مسیح نے یہ حکم دیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اُس زمانے میں پاؤں دھونا محبت اور مہمان نوازی کا ایک عام عمل تھا (لوقا 44:7، 1 تیمتھیس 10:5)، خاص طور پر ایسے گرم اور خشک علاقوں میں جہاں لوگ پیدل سفر کرتے تھے۔ ہمارے موجودہ ماحول میں، یہ عمل اپنی اصل معنویت بڑی حد تک کھو دیتا ہے۔ ایک مفسر نے بجا طور پر کہا ہے، محبت کے ایسے عمل کو محض رسم بنا دینا اُس کے اصل معنی کو بالکل ختم کر دیتا ہے۔
یوحنا 17:13 میں یسوع صرف پاؤں دھونے کی ہی نہیں بلکہ اُن تمام باتوں کا ذکر کرتا ہےجن سے مراد ہر طرح کی خیر خواہی، محبت اور مہمان نوازی کے کام ہیں جو مسیحیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کرنے چاہییں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاؤں دھونا سب سے ادنیٰ خدمت سمجھی جاتی تھی، جو عموماً غلام انجام دیتے تھے (1 سموئیل 41:25)۔ اِس لیے یسوع کا یہ عمل ایک زبردست نمونہ ہے کہ ہم کیسے دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں (فلپیوں 3:2) اور حقیقی فروتنی کے ساتھ ایک دوسرے کی خدمت کریں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.