Will We Recognize Loved Ones in Heaven?

Reading Time: 3 minutes

The following article, Will We Recognize Loved Ones in Heaven?, was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

کیا ہم آسمان پر اپنے پیاروں کو پہچانیں گے؟

مصنف: پادری رونالڈ ہینکو

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

ہمارے ایک قاری نے سوال کیا ہے، کیا ہم یقین کے ساتھ اپنے اُن پیاروں کو پہچان سکیں گے جو اب خداوند کے ساتھ ہیں؟ اِس سوال کا جواب دینا آسان نہیں۔

بائبل مقدس میں کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو اِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم نہ صرف اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں کو بلکہ دوسرے مقدسین کو بھی آسمان پر پہچان سکیں گے۔ تاہم، یہ شواہد قطعی نہیں ہیں۔

کون سے شواہد اِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم دوسروں کو پہچانیں گے؟

یہ شواہد اُن واقعات میں پائے جاتے ہیں جہاں کچھ لوگ مرنے کے بعد دوسروں کو دِکھائی دئے۔ اِن میں خاص طور پر چار واقعات اہم ہیں، سموئیل کا ساؤل کے سامنے ظاہر ہونا (1 سموئیل 7:28-20)، موسیٰ اور ایلیاہ کا تبدیلی صورت کے پہاڑ پر ظاہر ہونا (متی 1:17-3، مرقس 2:9-4، لوقا 28:9-31)، اُن لوگوں کا ظاہر ہونا جنہیں یسوع کی موت کے وقت زندہ کیا گیا تھا اور جو اپنی قبروں سے نکل آئے تھے (متی 52:27-53) اور خود یسوع کے اپنے جی اُٹھنے کے بعد ظاہر ہونے کے واقعات (لوقا 13:24-43، یوحنا 14:20-29، 1 کرنتھیوں 5:15-8)۔

پس مختلف مواقع پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساؤل نے سموئیل کو پہچان لیا، شاگردوں نے موسیٰ اور ایلیاہ کو پہچانااور کئی مواقع پر شاگردوں نے جی اُٹھنے کے بعد خداوند یسوع کو پہچان لیا۔

تاہم، اِن حوالوں سے قطعی نتیجہ اخذ کرنے میں کچھ دشواریاں بھی ہیں۔ سموئیل کا ظاہر ہونا اتنا غیر معمولی واقعہ ہے کہ یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہے کہ حقیقت میں وہاں کیا ہوا، لہٰذا اس سے واضح نتیجہ نکالنا دشوار ہے۔ اِسی طرح، اُن لوگوں کے بارے میں جو یسوع کی موت کے بعد ظاہر ہوئے، بائبل مقدس یہ بیان نہیں کرتی کہ لوگوں نے اُنہیں پہچانا۔ موسیٰ اور ایلیاہ کے معاملے میں بھی ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ شاگردوں نے اُنہیں کیسے پہچانا۔

یہ حقیقت کہ یسوع اپنے جی اُٹھے بدن میں اکثر پہچانے گئے، اِس خیال کی کچھ تائید ضرور کرتی ہے کہ ہم دوسروں کو پہچان سکیں گے۔ لیکن یہاں بھی بعض مواقع ایسے تھے جب اُن کے اپنے شاگرد ابتدا میں اُسے نہ پہچان سکے (دیکھیں، لوقا 16:24، یوحنا 14:20، یوحنا 4:21)۔ مزید یہ کہ یہ سب ظہور تھے یعنی خدا نے دنیاوی آنکھوں کے سامنے اُن چیزوں کو ظاہر کیا جو عام طور پر پوشیدہ رہتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ ظہور ہر موقع پر ایک جیسے نہیں تھے۔

تاہم، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آسمان پر اِس موجودہ زندگی کے رشتے اِسی صورت میں باقی نہیں رہیں گے۔ متی 30:22 میں یسوع نے یہی تعلیم دی ہے، کیونکہ قیامت میں بیاہ شادی نہ ہو گی بلکہ لوگ آسمان پر فرِشتوں کی مانند ہوں گے۔اُس نے صلیب پر بھی اِس بات کو ظاہر کیا جب اُس نے اپنی ماں کو یوحنا کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا،  اے عورت! دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے اور یوحنا سے کہا،  دیکھ تیری ماں یہ ہے (یوحنا 26:19-27)، اِس طرح یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی رشتے موت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کلامِ مقدس ہمیں آسمان اور وہاں کی زندگی کے بارے میں بہت کم بتاتا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں، پہلی، کیونکہ آسمانی چیزیں ایسی چیزیں ہیں جنہیں انسان کا دِل مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتا (1 کرنتھیوں 9:2)، دوسری، تاکہ ہماری توجہ اُس ایک بات پر مرکوز رہے جو حقیقی اہمیت رکھتی ہےیعنی یہ کہ ہم خدا کو دیکھیں گے، اُسے جانیں گے اور مسیح کے ساتھ ہوں گے۔

لہٰذا یہ سوال کہ کیا ہم آسمان پر اپنے پیاروں کو پہچانیں گے، ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ آسمان کی سب سے بڑی حقیقت خود خدا ہے اور اُس کے ساتھ ہماری رفاقت ہے۔ یہی آسمان کی مبارک حالی، خوشی اور عجیب بات ہے اور اِسی وجہ سے ایماندار وہاں جانے کی آرزو رکھتا ہے اور اُس دِن کا مشتاق رہتا ہے جب اُسے وہاں لے جایا جائے گا (فلپیوں 21:1-23)۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply