This excerpt is taken from Beauty and Glory of Christ’s Bride by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
ہم ذاتی طور پر مسیح پر بھروسا کرتے ہیں
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
کلسیوں 6:2–7 میں لکھا ہے، پس جس طرح تم نے مسیح یسوع خداوند کو قبول کیا اُسی طرح اُس میں چلتے رہو۔ اور اُس میں جڑ پکڑتے اور تعمیر ہوتے جاؤ اور جس طرح تم نے تعلیم پائی اُسی طرح ایمان میں مضبوط رہو اور خوب شکرگذاری کیا کرو۔ کلیسیا کے حقیقی ارکان مسیح کو ذاتی طور پر نبی، کاہن اور بادشاہ کے طور پر قبول کرتے ہیں (کیونکہ مسیح نام کا مفہوم یہی ہے)۔ ہم اُسے اُس ایمان کے وسیلے سے قبول کرتے ہیں جو روح القدس ہمارے اندر پیدا کرتا ہے (یوحنا 12:1)۔ یہ ایمان ایک عملی بھروسا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نجات کے لیے مسیح میں خدا پر مکمل طور پر تکیہ کرتا ہے۔ ولیم ایمز (1576–1633ء) لکھتا ہے، ایمان دِل کا خدا پر تکیہ کرنا ہے۔۔۔ ہم مسیح کے وسیلے سے خدا پر ایمان لاتے ہیں۔ پولس ہمیں بتاتا ہے کہ جس ایمان کے ساتھ ہم نے مسیحی زندگی کا آغاز کیا، اُسی ایمان کے ساتھ ہمیں پوری زندگی آگے بڑھتے رہنا ہے۔ ہمیں مسلسل مسیح پر بھروسا کرتے، اُس پر تکیہ کرتے اور اُسی کی طرف نگاہ رکھتے ہوئے زندگی گذارنی ہے۔ ہماری مسیحی زندگی کا آغاز بھی مسیح سے ہوتا ہے اور اُس کا تسلسل بھی مسیح پر ہی منحصر ہے۔
ایک کلیسیائی رکن اُس وقت یقیناً پریشان ہوگا جب اُسے معلوم ہو کہ کلیسیا کے ارکان کی فہرست میں اُس کا نام شامل نہیں ہے۔ اگر ہم اپنی کلیسیائی رکنیت کے بارے میں اِتنے فکر مند ہو سکتے ہیں تو ہمیں اُس سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے اِس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ ہمارا نام برّہ کی کتابِ حیات میں لکھا ہوا ہے یا نہیں۔ صرف اِس وجہ سے یہ فرض نہ کر لیں کہ ہم ایماندار ہیں کہ ہم نے برسوں پہلے کوئی فیصلہ کیا تھا یا کوئی روحانی تجربہ کیا تھا۔ اپنے آپ سے سوال کریں، کیا میں صرف یسوع مسیح پر بھروسا کر رہا ہوں کہ وہ مجھے خدا کے سامنے راست باز ٹھہرائے؟ کیا وہی ابدی زندگی کے لیے میری واحد اُمید ہے یا میں اِس بات پر بھروسا کر رہا ہوں کہ میری نیک نیتی یا میرے نیک اعمال میرے لیے آسمان کے دروازے کھول دیں گے؟
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.