This excerpt is taken from How Should We View Children in the Church? by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
کیا ہم اپنے بچوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
جب خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو اُن لوگوں کو جھڑکتے دیکھا جو اپنے بچوں کو اُس کے پاس لا رہے تھے تو وہ بہت زیادہ خفا ہوا اور اُس نے سختی سے دوہرا حکم دِیا کہ بچوں کو میرے پاس آنے دو۔ اُن کو منع نہ کرو کیونکہ خدا کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے (مرقس 14:10)۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مسیح کے پاس لائیں اور مسیح کے شاگردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُس کے نام میں اُن بچوں کو قبول کریں۔
لہٰذا ہمیں اِس امکان سے خبردار رہنا چاہیے کہ کہیں ہم خود اپنے بچوں کو مسیح کے پاس آنے سے روکنے کا سبب تو نہیں بن رہے۔ درج ذیل صورتوں میں ہم اپنے بچوں کے لئے خداوند کے پاس آنے میں مددگار بننے کی بجائے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
ہم خود یسوع کے پاس نہیں جاتے۔ پھر، ہم اپنے بچوں سے یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ اُس کے پاس جائیں گے؟
ہم گھر میں مسیح مرکوز گفت گو کو فروغ دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ صرف کلیسیا کے معاملات پر گفت گو کرنا یا وعظوں پر تنقید کرنا کافی نہیں ہے۔ ہمیں مسیح کے بارے میں، اُس کے شاندار جلال کے بارے میں، گناہ گاروں کے لئے اُس کی محبت کے بارے میں، اُس کی نجات بخش قدرت کے بارے میں اور اُن سب کو قبول کرنے سے متعلق اُس کی رضامندی کے بارے میں بات کرنی چاہیے یعنی اُن سب کے بارے میں جو اُس کے پاس آتے ہیں۔
ہم دیانت داری کے ساتھ زندگی گزارنے میں ناکام رہتے ہیں چناں چہ ہمارے بچے ہماری باتیں تو سنتے ہیں لیکن ہمارے اعمال میں اُن کو خدا اورہمارے پڑوسیوں کے لئے محبت کی جھلک نظر نہیں آتی۔
ہم مسیح اور اُس کی کلیسیا سے محبت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ہم خدا پر بھروسا کرنے اور اُس کے وعدوں پر مضبوطی سے قائم رہنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ہم روحانی باتوں میں بہت کم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم اپنی بائبل مقدس ایک اتوار سے دوسرے اتوار تک کھولتے ہی نہیں اور ہمارا مذہب محض کھوکھلی ظاہری رسومات اور طریقوں تک محدود رہ جاتا ہے جس میں حقیقی دِین داری کی قوت ہی موجود نہیں ہوتی۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.